بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم
اے عزیز !خدائےتعا لیٰ تجھے اپنی ذات میں فنا کر کے دولتِ بقا بخشے معلوم کرو حضرت خواجہ بہاو الدین نقشبند اور ان کے خُلفاء علیہم الرحمہ کے طریقے کا ما حصل یہ ہے کہ بعد عقیدہ کو صحیح کرنے اور سلفِ صالحین کے عقائد سے مطابق کرنےاور اعمالِ صالحہ کے بجا لانے اور سننِ ماثورہ کی اتّباع کرنے اور محرمات و مکروہات سے بچنے کے بعد خدائے تعالیٰ کے ساتھ دوامِ حضوری ہمہ وقت ہے بلا کسی سستی اور پرا گندگی کے پس یہ توجُّہ اور حضوری جب نفسِ سالک کی استعدادِ ذاتی بلکہ اس کے مِلک ہو جاتی ہے تو اُس کو مشاہدہ کہتے ہیں۔
حضوری حق کی دولت حاصل کرنے کے تین طریقے ہیں :
پھلا طریقہ ذکر ہے، یعنی کلمہ طیّبہ لا الہ الّا اللّٰہ کی تکرار کرے ،اور نفی تمام مخلوقات کو عدم اور فنا کی نظر سے مطالعہ کرے ،اور اِثبات میں وُجودِ معبودِ حقیقی کو قدم اور بقا کی نظر سے مشاہدہ کرے ،کلمہ شریف کی تکرار کے وقت زبان کو تالو سے چپکائے اور دلِ صنوبری کے ساتھ جو قلبِ حقیقی سے متعلِّق ہے متوجّہ ہوئے ،اور سانس کو روک کر پوری قوّت کے ساتھ ذ کر کرے اِس طرح کے اس کا اثر دل تک پہنچے اور قلب اس سے متاثر ہو ،لیکن اس کی اثر اس کے ظاہر پر نمودار نہ ہو ، بالفرض اگر کوئی شخص سالک کے پہلو میں بیٹھا ہو تو اس کے شغل سے وہ بھی آگاہ نہ ہو ،ہر وقت اس ذکر میں مستغرق رہے چلنے پھرنے بات کرنے سننے سونے جاگنے میں ہر وقت ذکر میں مصروف رہے ، ا گر کسی وجہ سے سستی پیدا ہو تو چشمِ دل سے متوجہ اور وذرابھی غافل نہ ہو اگر علی الصّباح کلمہ کی تکرار میں مصروف ہو تو امید ہے کہ تمام دن اس کا اثر رہیگا۔اگر سوتے وقت ذکر کرے توتمام شب اس کی برکت باتی رہیگی ، اگر اس پر مداوت ہو جائے تو بعض وقت اس کو بے خودی اور بے شعوی پیدا ہوگی ،جو جذب کا مقدمہ ہے ،پس چاہئے کہ اس کیفیت میں اپنے کو گرم کرےاور جس قدر ہو سکے اس کیفیت کومحفوظ رکھے۔ اگر یہ کیفیت کم ہونے لگے تو اس کوکلمہ شریف کی تکرار سے پھر دُرست کرلے ،پس جب اس کو اس کی عادت ہو جائے گی مل تو امید ہے کہ یہ ملکہ پیدا ہوجائیگا۔اگرچہ یہ کیفیت بالفعل اس کا حال نہ ہو اور اسکاحال علم میں داخل ہولیکن وہ جب چاہے گا تھوڑی دیر میں یہ حال پیدا ہوجائیگا۔اگرطبیعت میں مناسبت دیکھے تو سانس روک کرا یک ہی سانس میں تین بار یا پانچ باریا سات بارکلمہ کی تکرار کرے خطرات کے دفعیہ اورکیفیت بیخودی کے حاصل کرنے میں اس ذکر کو بہت بڑا دخل ہے اور اس سے حلاوت عظیم پیدا ہوتی ہے۔دوسرا طریقہ توجُّہ اور مراقبہ کا ہے۔ کہ معنی بیچون و بے چگون کو جو کہ اسم مبارک اللہ سے مفہوم ہوتے ہیں۔ بلا واسطہ عباراتِ عربی و فارسی عبرانی کےملاحظہ کرے اس نگہداشت کے ساتھ تمام مدارک اور قوتوں سے قلبِ صنو بری کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اس طریقے پر مداومت کرے ۔اوراس کی نگہداشت میں کوشش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ بے تکلیف قائم ہو جائے اور کوشش کرنیکی ضرورت نہ ر ہے۔ چونکہ یہ بات سالک میں جذبہ حاصل ہونے سے پہلے پیدا ہونی دشوار ہے۔لہذا سالک کو چاہئے معنی مقصود کا ایک نور کی شکل میں جوبسیط ہے اور وہ تمام موجودات علمی وعینی کومحیط ہے ،تصور کرے اور پوری ہمت اور قوت کے ساتھ قلب صنوبری کی طرف متوجّہ ہو۔ یہاں تک کے صورت در میان سے اٹھ جائے اورمقصود حاصل ہوجائے
رباعی
در کون ومکان نیست عیان جز یک نور ظاہر شدہ آ ں نور بانواع ظہور
حق نور تنوّعِ ظہورش عالم توحید ہمین است دگروہم و شرور
ترجمہ:
کون و مکان میں کچھ نہیں ایک نور کے سوا جلوہ نما ہے وہ سارے جہاں میں جا بجا
حق نور ہے زمانہ میں اس کا ظہور ہے تو حیدحق یہی ہے نہیں فرق اک ذرا
تیسرا طریقہ پیر کا رابطہ ہے ۔ایسے پیر کا دیدار جو مقام مشاہدہ تک پہنچا ہوا ہو،اور تجلیّاتِ حق سے متّصف ہو ،بفحوائے ھُمُ الَّذِیْنَ اِذَا رُوُاذُكِرَ اللهُ اس کا رابطہ ذکرکا فائدہ دیتا ہے اور اس کی صحبت مصداقِ ھُمْ جُلَسَآءَ اللّٰہ کا نتیجہ بخشتی ہے ، اگر ایسے عزیز کی دولت صحبت حاصل ہو اور اس کا اثر سالک میں نمو دار ہو۔ تو حتی الامکان اس کو محفوظ رکھے اگر اس اثر میں کمی پیدا ہو تو پھر اس کی صحبت کی طرف رجوع کرے یہاں تک کیفیت سالک کاملکہ ہو جائے۔ اگر اس کی صحبت میسر نہ ہو سکے تو اس کی صورت کا تصور کر کے اپنی ظاہر ی اور باطنی قوت سے قلبِ صنوبری کی طرف متوجہ ہو جائے اور جو خطرہ پیدا ہوں اُس کی نفی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ غیبت اور بے خودی کیفیت سالک میں نمو دارہو چند مرتبہ کے تکرار سے یہ کیفیت سالک کا ملکہ ہو جائیگی ۔
اکثر ایسا بھی ہوتاہے کہ اگر مرید میں قابلیت ہو تو پیر اس میں تصرف کرکے پہلی ہی صحبت میں مرتبہ مشاہدہ تک پہنچا دیتا ہے۔ چونکہ ایسے شیخ کا وُجود اس زمانہ میں کبریّت احمر سے بڑھ کر ہے اگر نہ میسر ہو سکے تو چاہئے کہ مذکورہ بالا دو طریقوں پر عمل کرے ۔
تینوں طریقوں کے بیان کرنے سے معلوم ہوگیا کہ قلب ِصنوبری کی طرف متوجہ ہونا جس کو اس طائفہ کی اصطلاح میں وقوف قلبی کہتے ہیں، ہر وقت ضرور ی ہے ۔حضرت خواجہ عبیدالله احرار قدس اللہ سرہ اس کو لازمی سمجھتے ہیں چنانچہ مولانا رو می فرماتے ہیں:
؎ مانندِ مرغ باش ہاں بر بیضہِ دل پاسباں کر بیضہِ دل زائدست مستی و شور و قہقہہ
ترجمہ مرغ کی مانند تو بیضہِ دل پر نظر تا ہو پیدا اس سے ھردم شور و مستی کا اثر رو بردرِ دل بنشیں کاں دلبر خر گا ہے وقتِ سحر آید یانیم شبے
صبح دم آجائے یا پچھلی کو آئے وہ نگار
لیکن وقوف زمانی یعنی اوقات کامحاسبہ کرنا کر تفرقہ میں گزرتے ہیں یا اطمینا ن میں، اور وقوف عددی یعنی عددِ ذکر کا خیال رکھنا نتیجہ بخشتے ہیں یا نہیں کچھ لازم نہیں ہے ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اثنائے طریق میں انوار اور واقعات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ سالک کو چاہئے کہ اس کی طرف متوجہ نہ ہو اور مقصودِ حقیقی کی طرف مصروف رہے ۔
حضرت خواجہ قدس سرہ کے ملفوظات میں ہے کر واقعہ صرف قبول طاعت کی علامت ہے۔ اس کے سوا
و اقعہ سے اور کچھ حاصل نہیں ہے۔
نہ شبم نہ شب پرستم حدیثِ خواب گویم چوں غلام آفتابم ہمہ زِ آفتاب گویم
ترجمہ؎ میں شب نہیں ہوں جو میں سنا وں حدیثِ خواب میں ہوں غلام شیخ جو ہے مثلِ آفتاب
پس اگر حق سبحانہ تعالے سالک کو اس طریق رفیق کے اشتغال کی توفیق عطا فرمادے ۔ تو اس کی لوگوں میں شہرت نہ دے اور خود کو نمایاں نہ بنائے اور بقدر ِامکان اس کے چھپانے میں کوشش کرے اور محرم و نامحرم سے پوشیدہ رکھے ۔
اردروں شو آشنا و ذر بروں بیگانہ نہ وش ایں چنیں زیبا روش کمتر بودادند حِباں
ترجمہ؎ اندر سے آشنا ہو باہر سے بے خبر یہ اک روش ہے سب سے بھلی اور با اثر
بعض بزرگان سلسلہ نے کہا ہے کہ اس طریق کے اخفاء کیلئے لطیف ترین طریقہ یہ ہے کہ پیر و مرید استاد اور شاگرد کی حیثیت رکھیں ۔ جو علما ءکی شان ہے پس اپنے کو اس حجاب میں پوشیدہ رکھے اور خلق کی نظروں سے دور ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کتب مطولہ متداولہ جس کی تعلیم تحصیل اور تکمیل علوم کیلئے ہوتی ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ تحصیل علوم مت کرو لیکن لازم ہے کہ ایسے طریقہ سے ہو جو مقصود حقیقی کے حصول کے مانع نہ ہو۔ اور توجہ خاطر سے اس طریق سے غافل نہ کرے۔ کیونکہ آخر وقت میں جب کہ موت کی علامتیں ظاہر ہو گی تمام علوم و معارف یکسر محو ہوجائینگے۔ بجز تحقیق سرِّ وحدت اور محبت مطلوب حقیقی کے جو حقیقت انسانی سے متحد ہے۔ اس کے سوا کچھ باقی نہ رہیگا ۔
ایک در ویش سے کہا گیا کہ فلاں شخص اپنے وہمی کمالات میں مغرور ہوکر کہتا ہے کہ مجھ کو کسی مردہ اور زندہ کی حاجت نہیں ر ہی ہے۔ درویش نے کہا کہ سبحان لله طبیعت کی کیسی غلظت اور حجاب کی کیسی کثافت ہے کہ مرض دیرینہ پر تنبیہ نہیں ہوتی ہے ۔
اس مرض کے علاج کی آسان شکل ہے کہ ڈاڑھی اور موچھوں کو جسکی افزائش اور آرائش میں عمر گزر گئی ہے بے عزتی اور بے توقیری کی قینچی سے کتروا کر مثل یہودیوں کی کرلے۔ اور لمبی چوڑی دستار کو جسکی ہستی کا
بو جھ گردن پر رکھا ہوا ہے لڑکیوں اور بوڑھی عورتوں میں تقسیم کر دے اور فاخرہ کپڑوں کو مخنثوں کے کارخانہ میں بھیجکر ٹاٹ کی گدڑی پہنے اور ننگے سر ہو کر اخروٹوں کی زنبیل گردن میں ڈال کر محلّوں اور بازاروں میں گشت لگائے، اور ان اخروٹوں کو لڑکوں میں تقسیم کردے تاکہ لڑکوں کے دھول وھپّہ کی ضربیں اس کی خودی کو اُس کے دماغ سے نکال لیں کہ اُس کے نفس کی جلد کی ضخامت کم ہو جائے۔ اور سوئی کے ناکہ میں داخل ہونے کی صلاحیت پاکر فقر کی حقیقت اس میں متحقق ہو سکے ان تمام باتوں کے باوجود ذلّت کے چہرےکی خاک پررکھے۔ اور اپنی رعونت اور نفسانیت کی ظلمت سے پناہ ڈھونڈھتا ہے شاید کہ حق سبحانہ تعالیٰ اپنی عنایت بیغایت سے اس کو ان کثیف اور غلیظ حجابوں سے رہائی بخشے ۔ ورنہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس معاملہ سے رعونت کا حجاب اُس میں اور پیدا ہو جائے ۔ جو پہلے سے بھی زیادہ کثیف ہو *
سالک کے لئے لازم ہے کہ مخالف صحبتوں سے پر ہیز کرے خاص کر اس جماعت کی صحبت سے جو نورِایمان سے دور ہیں اور طبیعت کی ظلمتوں میں مسرور ہیں۔ پھر فیض دہی اور نور بخشی کادعوٰی کرتے ہیں علم اور فقر کے دعوٰی میں عمرکا حصہ کذّابی اور خرّابی اور قلّابی میں صرف کرتے ہیں۔ اللہ تعالےٰ ہم کو اور تمام مسلمانوں کو ان کے عقاید کی خباثت اور اُن کے فکروں کے شر سے پناہ میں رکھے۔ یہ رباعی حضرت علی عزیزان رامتینی کی طرف منسوب ہے: .
با ھر کہ نشینی و نشد جمعِ دلت وزتو زہید زحمتِ آب و گلت
ز نہار ز صحبتش گریزاں میباش ور نکند روح عزیزاں بحلت
ایسی باتوں میں مصروفیت فقیر وں کا کام نہ تھا۔ مگر ایک وقت فقیروں کی جانب سے اخلاص کی ایک خوشبو شام میں پہنچی۔ جو اس تحریر و تقریر کی باعث ہوئی ہے :
با ایں ہمہ بے حاصلی وہیچ کی در ماندہ بے پار سائی وبو الہوسی
دادیم نشان زِ گنج مقصود و ترا گر ما نرسیدیم تو شاید برسی
ترجمہ
باوجود اس جہل و نادانی کے ہم مدعی ہیں زھد و دینداری کے ہم
کام اس نکتر سے لی اَے دیدہ ور رہ گیا ہوں گرچہ میں خود بے خبر
سر الجلی فی ذکر الخفی
06
Dec



