قرآن و تفسیر

بيوی کے حقوق

بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم

بیوی پر شوہر کے واجب حقوق :

1۔اللہ عزوجل ور سول  اللہ ﷺکے بعد بیوی سب سے بڑا حق شوہر کا جانے اور اس کیاطاعت و فرمانبر داری میں لگی رہے۔

2۔ اپنی عزت و عفت کی حفاظت کرنا۔

3۔ شوہر کے مال کی حفاظت کرنا۔

4۔ وظیفہ زوجیت کے مطالبے پر انکار نہ کرنا۔

5۔ بیوی کا بے اذنِ شوہر نفلی عبادت نہ کرنا۔

6۔ بیوی کا بے اذنِ شوہر گھر سے باہر نہ نکلنا۔

یادر ہے کہ درج بالا حقوق وہ ہیں، جن کی رعایت کرنا بیوی پر واجب ولازم ہے۔ اگر ان کو نہیں بجالائے گی تو گنہگار ہو گی۔

اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ  کے بعد بیوی سب سے بڑا حق شوہر کا جانے اور اس کی اطاعت و فرمانبر داری میں لگی رہے

یہ حق  بیوی پر شوہر کے حقوق واجبہ میں سے ایک  ہے لہذا بیوی پر ازدواجی تعلقات میں مطلقاً اور دیگر مباح امور میں شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری لازم و فرض ہے۔چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ۔[1]

ترجمہ : اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ( مردوں کا ) اُن پر ہے شرع کے موافق ( مطابق ) اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔(کنزالایمان)

آیت مذکورہ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح عورتوں پر شوہروں کے حقوق ادا کرنا لازم و واجب ہے اسی طرح شوہروں پر عورتوں کے حقوق پورا کرنا لازم و ضروری ہے، البتہ مرد کے حقوق عورت سے زیادہ ہیں۔ چنانچہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں امام فخر الدین رازی ، متوفی: 606ھ لکھتے ہیں :

اعْلَمْ أَنَّ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الزَّوْجَيْنِ حَقًّا عَلَى الْآخَرِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْمَقْصُودَ مِنَ الزَّوْجَيْنِ لا يتم إِلَّا إِذَا كَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مُرَاعِبًا حَقَّ الْآخَرِ وَ أَنَّ الزَّوْجَ كَالْأَمِيرِ ، وَالزَّوْجَةَ كَالأُمُورِ، فَيَجِبُ عَلَى الزَّوْجِ بِسَبَبٍ كَوْنِهِ أَمِيراً أَنْ يَقُومَ بِحَقِّهَا وَمَصَالِحِهَا، وَيَجِبُ عَلَيْهَا فِي مُقَابلَةِ ذَلِكَ إِظْهَارُ الطَّاعَةِ لِلزَّوْجِ۔

یعنی جان لو کہ میاں بیوی میں سے ہر ایک کا دوسرے پر حق ہے اور یہ بھی سمجھ لو کہ دونوں کا مقصد (اصلی) اسی وقت پورا ہو گا جب ہر ایک دوسرے کے حق کی رعایت کرے گا اور یہ بھی جان لینا چاہیے کہ شوہر امیر ہوتا ہے اور بیوی مامور ہوتی ہے ، لہذا شوہر کے امیر ہونے کی وجہ سے اس پر بیوی کے حقوق و ضروریات کا انتظام و انصرام لازم و واجب ہے اور اس کے مقابلے میں بیوی پر شوہر کی اطاعت و فرمانبر داری کو ظاہر کرنا واجب ہے۔[2]

اور درج بالا آیت کی تفسیر میں مفسر قرآن، شیخ ملا جیون جونپوری حنفی، متوفی 1130ھ لکھتے ہیں: فرمانِ باری تعالی : وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ “ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شوہر اور بیوی میں سے ہر ایک کے دوسرے پر حقوق ہیں اور خدمت کرنا، ادب بجالانا اور بالکلیہ شوہر کے حکم کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا بیوی پر شوہر کے حقوق واجبہ میں سے ہے۔ [3]

نیز شوہر بیوی پر نگہبان اور حاکم ہے اور بیوی مغلوب و محکوم ہوتی ہے ، لہذابیوی پر اس کی اطاعت و فرمانبر داری ضروری ہے۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

الرِّجَالُ قَوَمُوْنَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّلِحُتُ قُنِتُتٌ حَفِظَتْ لِلْغَيْبِ بِمَا حفظ الله ۔[4]

ترجمہ :مرد افسر ہیں عورتوں پر، اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے ؛ تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں (شوہروں کی اطاعت کرنے والیاں )ہیں خاوندکی عدم موجودگی میں حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا ۔

اس آیت مبارکہ سے شوہر کی بیوی پر بڑائی خوب ظاہر ہوتی ہے گویا کہ عورت رعایا اور مرد بادشاہ ہے؛ اس لئے عورت پر مرد کی اطاعت و فرمانبرداری لازم و ضروری ہے ، اس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ مرد کے حقوق عورت کے حقوق سے زیادہ ہیں اور یہ عین انصاف اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہے۔

جنتی حوریں کس بیوی کے لیے بد دعا کرتی ہیں؟

اور بیوی یہ بات یاد رکھے کہ اگر اپنے شوہر کو اس طرح تکلیف دے گی توجنتی حور اس کے لیے بربادی کی دعا کرے گی۔

چنانچہ حضور نبی اکرمﷺنے فرمایا:

لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْحَها في الدُّنْيَا إِلَّا قَالَتْ رُوحَتُهُ مِنَ الحور العين: لا تؤذيه قائلكِ الله؛ فإنما هُوَ عِندَكِ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إلينا أيضاً۔[5]

جب دنیا میں بیوی اپنے خاوند کو تکلیف دیتی ہے تو جنتی حور اسے کہتی ہے: اللہ تعالی تجھے قتل و بر باد کرے، اسے ایذانہ دے یہ تو تیرے پاس مہمان ہے، عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔

نیک بیوی عمدہ ترین خزانہ ہے

پھر وہ بیوی جو شوہر کو خوش رکھے وہ شوہر کا بہترین خزانہ ہے۔

ألا أخوك يغير ما يكبر المزة المرأة الصالحة، إذا نظر إليها سوله، وإذا أمرها أطاعته، وإذا غاب عنها حفظه۔[6]

چنانچہ سب سے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: کیا میں تمہیں مرد کا بہترین خزانہ نہ بتاؤں ؟ وہ خزانہ نیک بیوی ہے کہ جب خاوند اسے دیکھے تو خوش ہو جائے اور جب اُسے کوئی حکم دے تو وہ اطاعت کرے اور جب خاوند کہیں جائے تو اس کے مال کی حفاظت کرے۔

شوہر کی نافرمانی کی جائز صورت:

البتہ اگر کسی عورت کا باپ اپاہج ہو جائے اور اس کی خدمت کے لیے کوئی اور نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ اپنے والد کے ہاں جا سکتی ہے اگر چہ شوہر منع کرے۔

علامہ نظام الدین حنفی، متوفی 1161ھ و جماعۃ من علماء الہند تحریر فرماتے ہیں: عورت کا باپ اپاہج ہو اور اس کا کوئی  خیال کرنے والا نہ ہواور اس کا شوہر اسے باپ کے پاس جانے سے منع کرتا ہے تو ایسی صورت میں عورت کا اپنے شوہر کی نافرمانی کر کے باپ کی خدمت کے لیے جانا جائز ہے۔[7]  بلکہ ایسی صورت میں عورت پر لازم ہے کہ اپنے شوہر کی نافرمانی کر کے باپ کی خدمت کے لیے چلی جائے جیسا کہ " بحر " میں ہے۔[8] ( یہاں اُصولِ شرع یہ ہے کہ اگر شوہر کسی بھی ناجائز چیز کا حکم کرے تو اس کی نافرمانی جائز ہے کہ جس چیز میں خالق باری تعالی کی نافرمانی  ہو ، اس  کام میں کسی کی اطاعت و فرمانبرداری جائز نہیں ہے کہ مطلوب اللہ ورسول کو راضی کرنا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان عالیشان ہے:

وَٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَحَقُّ أَن يُرۡضُوهُ إِن كَانُواْ مُؤۡمِنِينَ۔[9]

ترجمہ: اللہ ورسول کا حق زیادہ تھا کہ اسے راضی کرتے اگر ایمان رکھتے تھے۔

واجب نمبر: 2 اور 3 عزت و عفت اور مال کی حفاظت کرنا:

شوہر کے حقوق واجبہ میں سے یہ بھی ہے کہ بیوی اپنی عزت و عفت اور خاوند کے مال کی سختی سے حفاظت کرے ، اس میں خیانت نہ کرے اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے بلکہ عورت خاوند کی وہی چیز صدقہ کر سکتی ہے جسے صدقہ کرنے کی شوہر کی طرف سے عادتا ( عرف میں ) اجازت ہوتی ہے اور اگر معلوم ہو کہ فلاں چیز صدقہ کرنے سے شوہر ناراض ہو گا یا کوئی خاص چیز جو جو مرد نے اپنے لیے رکھی ہے، ایسی چیزوں کا صدقہ کرنا عورت کے لیے جائز نہیں ہے ، البتہ عورت اپنے مال سے شوہر کی اجازت کے بغیر صدقہ و خیرات کر سکتی ہے۔ چناں چہ جو عورت شوہر کے مال کی حفاظت کرتی ہے، اللہ تعالی نے اُسے صالحہ اور نیک بخت عورت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: فَالصَّلِحُتُ قُنِتُتٌ حَفِظَتْ لِلْغَيْبِ بِمَا حفظ الله۔[10]

ترجمہ : تو نیک بخت عور تیں ادب والیاں ہیں ، خاوند کے پیچھے ( خاوند کی عدم موجودگی میں) حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا۔

مطلب یہ ہے کہ شوہر کے پس پشت اپنی عفت و پاکدامنی اور شوہر کے گھر عمال اور اس کے راز کی حفاظت کرنے والی عور تیں نیک بخت ہیں۔

واجب نمبر 4 وظیفہ زوجیت کے مطالبے پر انکار نہ کرنا:

خاوند کے حقوق واجبہ میں سے یہ بھی ہے کہ بیوی، ازدواجی تعلق کے مطالبے پر بغیر عذر شرعی کے انکار نہ کرے اگر چہ شوہر شرابی و کبابی یا زانی ہی کیوں نہ ہو ، ان افعال قبیحہ کا وبال شوہر پر ہے۔ بیوی کو شریعت کا حکم یہ ہے کہ وہ وظیفہ زوجیت کے مطالبے پر منع نہ کرے۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ۔[11]

ترجمہ: پھر جب پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا۔ بے شک اللہ پسند رکھتا ہے بہت تو بہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔

اور فرماتا ہے: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنّٰى شِئْتُمْ۔(ایضا223)

ترجمہ: تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو۔

مفسر قرآن حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی حنفی، متوفی 1391ھ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں : جب عورتیں تمہاری کھیتیاں ہوئیں تو اپنی کھیتی یعنی شرمگاہ کوجس طرح چاہو استعمال کرو، جب کبھی چاہو دن میں یارات میں یا جیسے چاہو کھڑے ہو کر ، لیٹ کر بیٹھ کر ، آگے سے، پیچھے سے یاچت بشر طیکہ صحبت فرج ( اگلے مقام) میں  ہو۔

اور اللہ تعالی کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب خاوند اپنی بیوی کو وظیفہ زوجیت کے لیے بلائے تو اسے چاہیے کہ حاضر ہو جائے اگر چہ تنور پر  ہو۔[12]

اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی حیلے بہانے کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائے ۔ پوچھا گیا: حیلے بہانے کرنے والی عورت سے کونسی عورت مراد ہے ؟ ارشاد ہوا: جسے شوہر اپنے بستر پر بلائے اور وہ کہے : آتی ہوں، آتی ہوں حتی کہ اس کے شوہر کی آنکھ لگ جائے۔ اور شوہر اگر یوں ہی ناراض ہر کر سو گیا تو بیوی پر فرشتے صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔[13]

واجب نمبر: 5 بیوی کا بے اذنِ شوہر نفلی عبادت نہ کرنا:

خاوند کے حقوق واجبہ میں سے یہ بھی ہے کہ بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور نفلی نماز بھی نہ پڑھے۔

چنانچہ ” بخاری شریف میں حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اکرم نور مجسم ﷺ سے روایت کی کہ

لَا تَصُومُ المَرْأَةُ وَبَعْنُهَا شَاهِدٌ إِلَّا باذنه۔[14]

یعنی عورت خاوند کی موجودگی میں اُس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔

اور ” بخاری شریف“ میں حضرت سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی عورت کو جائز نہیں ہے کہ وہ خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھے اور اس کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں نہ آنے دے۔

 

واجب نمبر: 6بیوی کا بے اذنِ شوہر گھر سے باہر نہ نکلنا:

 خاوند کے حقوق واجبہ میں سے یہ بھی ہے کہ بیوی اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلے۔

اس حق کا تفصیلی حکم شرع یہ ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر محارم کے سواکہیں نہیں جاسکتی اور اور عورت اپنے والدین کے یہاں بھی شوہر کی اجازت سے یا بلا اجازت ہر ہفتہ میں ایک بار ( ہر آٹھویں دن وہ بھی صبح سے شام تک کے لئے جا سکتی ہے ) اور دیگر محارم، مثلا : ” بہن، بھائی، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی“ کے یہاں سال میں ایک بار جاسکتی ہے، مگر رات میں بغیر اجازت شوہر وہاں نہیں رہ سکتی اور اگر رات میں بغیر اجازت شوہر وہاں رہے گی تو گنہگار ہو گی۔

چنانچہ علامہ محمد علاء الدین بن علی حصکفی حنفی، متوفی :1088 ھ تحریر فرماتے ہیں : عورت اپنے والدین کے یہاں ہر ہفتہ میں ایک بار اور دیگر محارم کے یہاں سال میں ایک بار جاسکتی ہے۔[15]

واجب نمبر1: مہر ادا کرنا .

واجب نمبر: 2 اچھے طریقے سے زندگی بسر کرنا .بیوی کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ اچھے اخلاق، نرمی اور محبت کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ

ترجمہ : اور ان (بیویوں) سے اچھا برتاؤ کر و۔  یعنی اے مومن مردو! اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ اور رسول اکرم نبی مکرم صلی ا ہم نے " معاشرة النساء بالمعروف یعنی بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرنے “ کی تفسیر ، قول اور فعل دونوں طرح سے کر دی ہے۔اچھے طریقے سے زندگی بسر کرنے کی قولی تفسیر حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ زاہدہ عابدہ رضاللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور جان عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مومنوں میں سے کامل ترین ایمان والا وہ ہے جس کا خلق اچھا ہو اور جو اپنی بیوی کے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔ اور امام ترمذی علیہ الرحمہ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : هذا حديث حسن یعنی یہ حدیث حسن ہے۔[16]

واجب نمبر 4:نفقہ ( بیوی پر خرچ کرنا) بیوی کے حقوق واجبہ میں سے یہ بھی ہے کہ خاوند اس پر خرچ کرے یعنی بیوی کے کھانے پینے ، پہننے کے لیے کپڑوں اور رہنے کے لیے علیحدہ کمرہ ور ہائش کا انتظام وانصرام شوہر پر واجب ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

 وَعَلَى الْمَوْلُودِلَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ لا تُكَلِّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَارَ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ ۚ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ

 ترجمہ : جس کا بچہ ہے اُس (والد) پر عورتوں کو کھانا اور پہننا ہے دستور کے موافق کسی جان پر تکلیف نہیں دی جاتی مگر اُس کی گنجائش کے لائق ماں کو اس کے بچہ کے سبب ضرر نہ دیا جائے اور نہ باپ کو اُس کی اولاد کے سبب اور جو باپ کے قائم مقام ہے اُس پر بھی ایسا ہی واجب ہے۔

واجب نمبر5:أمر بالمعروف و نہی عن المنكر :  بیوی کے حقوق واجبہ میں سے یہ بھی ہے کہ خاوند اسے نیکی کی تلقین کرتا رہے اور بُرائی سے منع کرتا رہے ، اسے طہارت ، نماز ، روزہ اور حیض و نفاس کے مسائل سکھائے اور اسے صوم و صلوٰۃ کا پابند بنا کر نارِ جہنم سے بچائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۔[17]

 ترجمہ : اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ ، جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ اس پر سخت کرے فرشتے مقرر ہیں ، جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں۔

ہر مسلمان پر اپنے اہل حنانہ کی اسلامی تعلیم و تربیت لازم ہے اس آیت سے معلوم ہوا کہ جہاں مسلمان پر اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے وہیں اہل خانہ کی اسلامی تعلیم و تربیت کرنا بھی اس پر لازم ہے، لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو اسلامی احکامات کی تعلیم دے یاد لوائے یونہی اسلامی تعلیمات کے سائے میں ان کی تربیت کرے تاکہ یہ بھی جہنم کی آگ سے محفوظ رہیں۔ ترغیب کے لئے یہاں چند احادیث ملاحظہ ہوں:

چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الله عنه سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، چنانچہ حاکم نگہبان ہے ، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے اہل خانہ پر نگہبان ہے، اس سے اس کے اہل خانہ کے بارے سوال کیا جائے گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگہبان ہے ، اس سے ا س کے بارے میں پوچھا جائے گا، خادم اپنے مالک کے مال میں نگہبان ہے، اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا، آدمی اپنے والد کے مال میں نگہبان ہے ، اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا، الغرض تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہو گا۔ [18]

مسلمان کے مسلمان پر 31 حقوق:

ایک مومن کےدوسرے  مومن پر جو حقوق بیان کئے گئے ہیں

 

۔ایک مومن دوسرے مومن کی لغزش کو معاف کرے

2..اسکے آنسو پہ رحم کرے

3..اسکے عیب کو چھپا دے

4..اسکے گناہ کو معاف کردے

5..اسکی عزر خواہی کو قبول کرے۔

6..اسکی غیبت کو رد کرے

7۔۔ہمیشہ اسکی خیرخواہی کرے۔

8۔۔اسکی دوستی کو محفوظ رکھے۔

9۔۔اسکے عہد کو نگاہ رکھے۔

10..اسکے مریضوں کی عیادت کرے۔

11..اسکے جنازے پر حاضر ہو۔۔

12..اسکی دعوت کو قبول کرے۔

13..اسکا ہدیہ قبول کرے۔

14..اسکے انعام و صلہ کا بدلہ دے۔۔

15..اسکی نعمت کا شکریہ ادا کرے۔۔

16..اچھی طرح اسکی مدد کرے۔۔

17..اسکی عزت کی حفاظت کرے۔

18..اسکی حاجت پوری کرے۔۔

19.. اسکی سفارش قبول کرے

20..اسکے مقصد کو نکام نہ کرے

21..اسکے چھینکنے کا جواب دے۔

22..اسکی گمشدہ چیز کی راہ تبارے۔۔

23..اسکے سلام کا جواب دے۔

24..اس سے اچھی بات کرے۔۔

25..اسکے انعام کا بدلہ دے۔۔

26..اسکی قسموں کو سچ کرے۔۔

27..اگر وہ ظالم ہے تو اس طرح اسکی مدد کرے کہ وہ ظلم سے رک جاے۔اگر مظلوم ہے تو اسکے حق کے پورا کرنے پر اسکی مدد کرے۔۔

28..اسکو دوست رکھے اور اسکی دشمنی نہ کرے۔۔

29..اسکو زلیل نہ کرے

30..اسکو گالی نہ دے۔۔                 

31..جو بھلائی اپنے لیے پسند کرے اسکے لیے بھی وہی پسند کرے ۔۔

پس ان حقوق میں سے کسی کو نہ چھوڑے ورنہ قیامت کے دن وہ اسکا مطالبہ کرے گا ۔۔اور اللہ توفیق دینے والا ہے



 

 

 

 

[1] سورة البقرة : 2/ 228

[2] مفاتيح الغيب=التفسير الكبير، البقرة، تحت440/6.228:4

[3] ملا جیون ، احمد بن ابو سعید ،المتوفی 1130ھ، التفسيرات الأحمدية في بيان الآيات الشرعية، تحت هذه الآية، صفحة: 122

[4]  سورۃ النساء 34:4

[5]  قوت القلوب لأبي طالب المكي ۲/۴۱۶/تتمة مسند الأنصار، حديث معاذ بن جبل، 417/36

[6] سنن أبي داود، كتاب الزكاة، باب في حقوق المال، 126/2

[7] الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب الحادى عشر في القسم، ٣٤١/١

[8] البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب النكاح ، باب القسم، 3/ 237

[9] سورۃ التوبہ 62:9

[10] سورة النساء: ٣٤/٤

 

[11] سورۃ البقرہ 222:2

[12] سنن الترمذی ،ابواب الرضاع، باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ،3/457

[13] المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمایہ ،کتاب النکاح ،باب نھی الراۃ عن التواطؤ اذا استدعاھا شوجھا،الحدیث: 1605، 5/195

[14] محمد بن اسماعیل ،البخاری،جامع الصحیح ، كتاب النكاح، باب صوم المرأة بإذن زوجها تطوعاً، الحديث:(30/7.5192

[15] ردالمحتار، کتاب الطلاق، باب النفقة، 328/5

[16] سُنَن الترمذي، أبواب الإيمان، باب ما جاء في استكمال الإيمان وزيادته ونقصانه، برقم: ٢٦١٢ ، ٤٤١/٣

[17] سورۃ التحریم 66:6

[18] محمد بن اسماعیل ،البخاری ،جامع الصحیح ، کتاب الجمعة، باب الجمعة فى القرى والمدن، ۲۱۲/۱ ، الحدیث: ۸۹۳

ابو محمد مفتی فاروق احمد محمدی سیفی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *